امام محمد بن سیرین نے فرمایا ہےکہ خواب
تین طرح کے ہوتےہیں۔ایک تو حدیث نفس(دلی خالات کاانعکاس)
دوسرے تخویف شیطان۔تیسرے مبشرات خداوندی۔
اس تقسیم سے ظاہرہےکہ خواب کے تمام اقسام صحیح، قابل تعبیر
اور درخورالتفات نہیں ہوتے،بلکہ تعبیراور اعتبار کے لائق خواب
کی وہی قسم ہے جوﷲکی طرف سے بشارت واعلام ہو۔حدیث
نفس کی مثال یہ ہےکہ کوئ شخص ایک کام یا حرفہ کرتاہے
وہ خواب میں بھی عموما وہی چیزیں دیکھےگا۔جن میں دن
میں بھر منہمک رہتاہےیا کوئ عاشق محروم الوصال جوہر
وقت اپنے محبوب کی یاداور خیال میں مستغرق رہتاہے۔
وہ خواب میں بھی عموما اسی کو دیکھتاہے۔سچاخواب
اس لۓ دکھایاجاتاہے کہ بندہ محظوظ ہواورطالب حق
اور محبت الہی میں اور زیادہ سر گرم کارہو۔ایساخواب
قابل تعبیر ہے اور اسی پر بڑےبڑے اہم نتائج مرتب ہوتےہیں
تین طرح کے ہوتےہیں۔ایک تو حدیث نفس(دلی خالات کاانعکاس)
دوسرے تخویف شیطان۔تیسرے مبشرات خداوندی۔
اس تقسیم سے ظاہرہےکہ خواب کے تمام اقسام صحیح، قابل تعبیر
اور درخورالتفات نہیں ہوتے،بلکہ تعبیراور اعتبار کے لائق خواب
کی وہی قسم ہے جوﷲکی طرف سے بشارت واعلام ہو۔حدیث
نفس کی مثال یہ ہےکہ کوئ شخص ایک کام یا حرفہ کرتاہے
وہ خواب میں بھی عموما وہی چیزیں دیکھےگا۔جن میں دن
میں بھر منہمک رہتاہےیا کوئ عاشق محروم الوصال جوہر
وقت اپنے محبوب کی یاداور خیال میں مستغرق رہتاہے۔
وہ خواب میں بھی عموما اسی کو دیکھتاہے۔سچاخواب
اس لۓ دکھایاجاتاہے کہ بندہ محظوظ ہواورطالب حق
اور محبت الہی میں اور زیادہ سر گرم کارہو۔ایساخواب
قابل تعبیر ہے اور اسی پر بڑےبڑے اہم نتائج مرتب ہوتےہیں
No comments:
Post a Comment