ہم اس فصل میں بیان کریں گے کہ خواب کی حداور مزاج کیاہے؟
یہ بات جان لو کہ حکماء نے بیان کیاہےکہ نیند کا سبب تر بخارات
کاوجود ہے جو جسم سے دماغ کی طرف چڑھتےہیں،جس کے باعث
تمام حواس اور قوتیں آرام پاتی ہیں اور غذاہضم ہوتی ہے اورجسم
کی اخلاط پختہ ہوتی ہیں۔طبیب اس خواب کو طبیعی کہتےہیں اور
بعض کے نزدیک خواب دماغ کے افعال میں سےایک فعل کا نام
اوروہ طبعی فعل ہے کیونکہ اس سے قوتوں کو آرام پہنچتا ہےخاص
کرقوت تخلیل اور قوت قوت فکرکو زیادہ آرام پہنچتاہےاور یہ قوتیں
جن کا ذکر ہوا ہےاور روح نفسانی کی حرکات ہیں اوران جگہ دماغ
ہےاور خواب سے آرام ہے تاکہ رروح نفسانی تسکین پاۓ۔
اس پر دلیل یہ ہےکہ جو شخص تحصیل علم میں مشغول ہوتاہےاور
رات کو گرمی اور خشکی اس کے مزاج پر غالب آجاتی ہےتوروح
نفسانی کثرت حرکــت سے سست اور کمزورہوجاتی ہے اور یہیںسے
دکھـ اور بیمــاریاں پیداہـــوتی ہیں۔ان کا عـلاج سرد اورتــر چیزیں ہیں۔
جیســےروغن بنفشہ اور روغن نیلوفراور جوچیزیں ان کے مناسب ہیں۔
حکمـــاءبیــــان کــــرتے ہیں کہ خـــواب دوقســم پـــرہـے۔
ایـــک طبعــی،دوســری غیـــرطبعـــی۔
لیکن طبعی حرارت عزیزی کو قائم رکھتی ہے۔یعنی اصــــلی گرمی کو
اندرمیں نگاہ رکھتی ہے۔لیــــکن چند قــــــواۓنفسانی سست ہوجاتی ہیں۔
کیونکہ ان پر غالب تری ہوجاتی ہےلیکن رنج کـــودور کرناچــــاہۓاور
جــــو فضلات جسم میں جمع ہوگے ہیں،ان کـــــو پسینہ کےذریعے رفع
کــــــرنا چاہــۓ۔
غیــر طبعــی خواب تین قسم کے ہیں۔
ایک جسم کے فساد مزاج سے۔
دوســــری بعض اخلاط یعنی خون اور صفرا اور سودا کے زیادہ ہونے
سے۔
تیسری غلیظ غذاّؤں کے کھانےسےہےیا سرداور تر دماغ کے افکار ہیں
ان کا سر مایـہ دماغ کی سردی اور تری سے ظـاہر ہوتاہے۔اسی لۓگرم
وخشـــــک دماغ والے کو نیند بہت ہم کم آتی ہے اور گرم و تردماغ کو
بہت نیند آتی ہے۔
اگر کوئ شخص اعتراض کــرے اور کہے کہ تم نے کیسے جاناہے کہ
خـــــواب ایک فعل افعال سردتر اور راحت وقووت متخیلہ ومتفکرہ ہے
اس کا جـواب یہ کہ ہم کو عقل کے ذریعے معلوم ہوتا ہے بیٹھنا کھڑے
ہو نے سے راحــــت ہے۔راحت کی وجہ سے بیداری اور دماغی قوتوں
کی آسائش ہے۔ لہــذا یقینا خواب دماغ کے افعال میں سے ایک فعل ہے
اور خــــــواب طبعی اور غیر طبعی،ضعف قوت تخیل وقوت ذکروقوت
فــــکــــر کـــــــی شــــرح۔
یہ بات جان لو کہ حکماء نے بیان کیاہےکہ نیند کا سبب تر بخارات
کاوجود ہے جو جسم سے دماغ کی طرف چڑھتےہیں،جس کے باعث
تمام حواس اور قوتیں آرام پاتی ہیں اور غذاہضم ہوتی ہے اورجسم
کی اخلاط پختہ ہوتی ہیں۔طبیب اس خواب کو طبیعی کہتےہیں اور
بعض کے نزدیک خواب دماغ کے افعال میں سےایک فعل کا نام
اوروہ طبعی فعل ہے کیونکہ اس سے قوتوں کو آرام پہنچتا ہےخاص
کرقوت تخلیل اور قوت قوت فکرکو زیادہ آرام پہنچتاہےاور یہ قوتیں
جن کا ذکر ہوا ہےاور روح نفسانی کی حرکات ہیں اوران جگہ دماغ
ہےاور خواب سے آرام ہے تاکہ رروح نفسانی تسکین پاۓ۔
اس پر دلیل یہ ہےکہ جو شخص تحصیل علم میں مشغول ہوتاہےاور
رات کو گرمی اور خشکی اس کے مزاج پر غالب آجاتی ہےتوروح
نفسانی کثرت حرکــت سے سست اور کمزورہوجاتی ہے اور یہیںسے
دکھـ اور بیمــاریاں پیداہـــوتی ہیں۔ان کا عـلاج سرد اورتــر چیزیں ہیں۔
جیســےروغن بنفشہ اور روغن نیلوفراور جوچیزیں ان کے مناسب ہیں۔
حکمـــاءبیــــان کــــرتے ہیں کہ خـــواب دوقســم پـــرہـے۔
ایـــک طبعــی،دوســری غیـــرطبعـــی۔
لیکن طبعی حرارت عزیزی کو قائم رکھتی ہے۔یعنی اصــــلی گرمی کو
اندرمیں نگاہ رکھتی ہے۔لیــــکن چند قــــــواۓنفسانی سست ہوجاتی ہیں۔
کیونکہ ان پر غالب تری ہوجاتی ہےلیکن رنج کـــودور کرناچــــاہۓاور
جــــو فضلات جسم میں جمع ہوگے ہیں،ان کـــــو پسینہ کےذریعے رفع
کــــــرنا چاہــۓ۔
غیــر طبعــی خواب تین قسم کے ہیں۔
ایک جسم کے فساد مزاج سے۔
دوســــری بعض اخلاط یعنی خون اور صفرا اور سودا کے زیادہ ہونے
سے۔
تیسری غلیظ غذاّؤں کے کھانےسےہےیا سرداور تر دماغ کے افکار ہیں
ان کا سر مایـہ دماغ کی سردی اور تری سے ظـاہر ہوتاہے۔اسی لۓگرم
وخشـــــک دماغ والے کو نیند بہت ہم کم آتی ہے اور گرم و تردماغ کو
بہت نیند آتی ہے۔
اگر کوئ شخص اعتراض کــرے اور کہے کہ تم نے کیسے جاناہے کہ
خـــــواب ایک فعل افعال سردتر اور راحت وقووت متخیلہ ومتفکرہ ہے
اس کا جـواب یہ کہ ہم کو عقل کے ذریعے معلوم ہوتا ہے بیٹھنا کھڑے
ہو نے سے راحــــت ہے۔راحت کی وجہ سے بیداری اور دماغی قوتوں
کی آسائش ہے۔ لہــذا یقینا خواب دماغ کے افعال میں سے ایک فعل ہے
اور خــــــواب طبعی اور غیر طبعی،ضعف قوت تخیل وقوت ذکروقوت
فــــکــــر کـــــــی شــــرح۔
No comments:
Post a Comment